طالبان کے آنے کی خوشی میں جشن،ریما عمر اور سمیرا خان میں لفظی نوک جھونک

طالبان کے آنے کی خوشی میں جشن۔۔۔جیو کی صحافی ریما عمر اور انڈس نیوز کی صحافی سمیرا خان آمنے سامنے۔

ریما عمر جو ماضی میں یہ بیان دے چکی ہیں کہ چین کی ترقی کا راز کرپشن ہے، وہ افغانستان سے متعلق اپنے ٹویٹس پر تنقید کی زد میں آگئیں ۔ انڈس نیوز کی صحافی سمیرا خان جو آج کل افغانستان میں رپورٹنگ کررہی ہیں، نے جواب دیا تو دونوں میں بحث چھڑگئی۔

جیو کی صحافی ریما عمر نے اپنی ایک ویڈیو شئیر کی اور ساتھ ہی کیپشن لکھی کہ کیا پاکستانیوں کو طالبان کی افغانستان میں جیت کا جشن منانا چاہیے؟

اس ویڈیو کلپ میں ریما عمر کہتی ہیں کہ کیا پاکستانیوں کو طالبان کی افغانستان میں جیت کا جشن منانا چاہیے؟کس چیز کا جشن منانا چاہئے اور کیوں منانا چاہئے؟ کیا اس بات کا جشن منانا چاہئے کہ خواتین کو یونیورسٹیز، کالجز، دفاتر سےو اپس بھیجا جارہا ہے کہ اب وہ کام نہیں کرسکتیں اور تعلیم حاصل نہیں کرسکتیں؟

ریماعمر مزید کہتی ہیں کہ ایک پوری جنریشن تھی افغان نوجوانوں کی جنہوں نے مختلف خواب دیکھے تھے اور انکے خواب چکنا چور ہوگئے ہیں ؟ کیا پاکستانی اس بات کا جشن منائیں کہ کوئی جہاز کیساتھ لٹکتا ہے اور گر جاتاہے؟ انسانیت بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔

ریماعمر نے مزید کہا کہ ہم اس بات کا جشن منارہے ہیں کہ بھارت افغانستان سے نکل گیا، کیا بھارت کے افغانستان سے نکلنے کی قیمت انسانی حقوق کی پامالیاں ہیں؟

اس پر افغانستان میں رپورٹنگ کیلئے جانیوالی صحافی سمیرا خان نے طنزیہ جواب دیا کہ آپ نے خدا نخواستہ کس پاکستانی کو دیکھ لیا جشن مناتے ہوئے؟؟

سمیرا خان کے ٹویٹ پر ریما عمر نے جواب دیا کہ ویسے تو بہت سی مثالیں ہیں – شائد آپکی نظر سے نہیں گزریں ۔ لیکن اپنی ٹویٹ کے جوابی کا مینٹس ہی پڑھ لیں – پاکستانیوں کے جشن کی ایک جھلک ضرور مل جائے گی 🙂

اس پر سمیرا خان نے جواب دیا کہ آپکی کرپشن اور چائنیز ترقی پر دی گئی مثالیں ابھی تک ذہن سے محو نہیں ہوئیں اصل میں۔۔۔۔اسلئے شک رہتا ہے ۔۔۔۔ اور ہاں اس بات کا جشن تو ہر پاکستانی کا بنتا ہے کہ اسکے پڑوس کی زمین بھارتی اثر و رسوخ سے آزاد ہے اب۔۔۔آپکو خوشی نہیں یا آپ پاکستانی نہیں یا پھر کوئی اور معاملات ہیں؟؟

ریما عمر نے سمیرا خان کو جواب دیا کہ اور آپکو بھولنا بھی نہیں چاہئے – یہ بات میری خواہش نہیں بلکہ چین کی معیشت کے ماہرین کی راۓ پر مبنی ہے جب آپکو حُب الوطنی کے سرٹفکییٹ بانٹنے سے فرصت ملے تو “China’s gilded age” ضرور پڑھئے

ریماعمر نے مزید کہا کہ مگر اپنے وٹس ایپ سا تھیوں کو نا بتائے گا – کہیں آپ ہی کو غدار نا قرار دے دیں

اس پر سمیرا خان نے ریماعمر کو جواب دیا کہ آپ جیسوں کے پاس دلیل ختم ہو جائے تو واٹس ایپ کا آسرا رہ جاتا ہے ہے نا۔۔۔خیر کوئی بات نہیں۔۔۔۔آپکا واٹس ایپ اپکی مرضی

  • Ye landay bazaar ke desi liberals. aaday teetar aaday batair, ye to khush hotey thay jab RAW,NDS mil ker afghanistan k borders se pakistan mein masoom bacho ko, maao ko, behnoo ko, nojawano ko, bazurgo ko, security agneices k muhafizo ko, masjido mein, madrasso mein, schools mein, hospitals mein, mandiro mein, gurdwaro mein churches mein khoon ka naddiya bahatey hein, ye gair mulki agents hein, jin k pakistani ID aur passports hein. in traitors ko hamari riyasat ne na jane kiu azaad chor rakha hai,, samjh se bala tur hai,,

  • behnchod pata nhi kahan say yeah Sumaira Khan type jahil gadhi type aurtain ajati hayn. Inn phuddi yawn diyo ko permanant afghanistan hi shift krdena chayey, iski phuddi mayn lun maroon, kabhi seedhi bat nhi karni, hamesha dossron ko ghaddar declare krky apni choot chudwani hoti hay.
    Maa ki lori, hay hi fojio ki rundi, jesa unhon nay kehna hay, isnay wesay hi apni phuddi mara leni hay, baqi havaldaro ki trha, gandoo pata nhi kab Pakistan ki jaan chorayn gay

  • یہ لنڈے کے مغرب کے غلام زہن جاہل جعلی لبرلز ٢٠ سال
    افغانوں کے مرنے پر بھارت کے خلاف نہیں بولے
    انہیں افغانستان میں طالبان سے تو ڈر لگتا ہے جہاں عوام نے ان کو ویلکم کیا ہے
    انہیں ٢٠٠٠ بندے جہازوں پر نظر اتے ہیں ٤ کروڑ لوگ نظر نہیں اتے جنہوں نے
    دشمن ملکوں کے نکلنے پر جشن منایا ہے-

  • لنڈے کے جاہل جعلی لبرلز کو جہنیں لبرلزم کے سپیلنگ تک نہیں اتے
    افغانستان میں طالبان کے حقوق کی بری فکر ہے
    لیکن اپنے کشمیریوں کے مظالم پر بھارت کے خلاف کبھی نہیں بولے خونی لبرلز کو
    صرف خون چاہیے ان ٠.٠٠٠٠٠١ % ذہنی مرضوں کی کیا جرات
    پاکستان کے مواقف کے خلاف بکنے کی؟؟؟


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >