افغان پناہ گزیں کا کم کھانا ملنے پر سوشل میڈیا پر شکوہ، امریکی شہریوں کا جوابی وار

حامد احمدی نامی ایک افغان مہاجر نے سوشل میڈیا پر ایک تصویر شیئر کی جس میں وہ کھانا دکھایا گیا تھا جو امریکی حکومت افغانستان سے نکالے گئے مہاجرین کو دے رہی ہے۔

افغان شہری نے تصویر شیئر کی تو امریکی اس پر ٹوٹ پڑے اور سخت ردعمل دیا کہ اسے جو مل رہا ہے اس پر شکرگزار ہونا چاہیے بجائے اس کے کہ وہ اس میں خامیاں نکالے۔

حامد احمدی نامی سوشل میڈیا صارف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ کیا جس میں اس کا کہنا تھا کہ میں کوئی شکایت نہیں کر رہا مگر یہ وہ کھانا ہے جو کہ 12 گھنٹے کے بعد مجھے ملا ہے۔ اس نے مزید کہا کہ پناہ گزینوں کی زندگی محفوظ تو ہو سکتی ہے مگر آسان اور سازگار نہیں۔

اس افغان پناہ گزین کو امریکی ریاست ٹیکساس کے فورٹ بل ایلپاسو میں ٹھہرایا گیاہے۔

حامد احمدی کے اس ٹوئٹ کے جواب میں امریکی سیاستدان لیورن سپائسر نے کہا کہ ہم نے تم لوگوں کو وہاں سے بچایا ہے اور اپنے ٹیکس پیئر کے پیسے سے تمہیں کھلا رہے ہیں اور تم اپنی ہمت تو دیکھو کہ اس پر شکایت کر رہے ہو۔ انہوں نے ایک امریکی گلوکار کا مقولہ بھی شیئر کیا کہ اگر تمہیں یہ ملک پسند نہیں تو یہاں سے چلے جاؤ۔

گاڈ ساڈ نامی امریکی پروفیسر نے کہا کہ کیسا ہو گا اگر تم اس پر شکر ادا کرو اس سے تمہاری عزت بچے گی اور کچھ وقار کا مظاہرہ ہو جائے گا۔ کیونکہ تمہارا یہاں کسی پر کوئی احسان نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں لبنان سے امریکا آنے والا پناہ گزین ہوں اور امریکی حکومت کا شکرگزار ہوں۔

ایمی تارکینین نے جواب میں کہا کہ وہ سابق فوجیوں سے مل چکی ہیں جن کے پاس گھر نہیں تھے وہ مفت میں کھا بھی نہیں رہے تھے، اور ایک بات ان کے پاس آئی فون بھی نہیں تھے۔

جم ہینسن نے کہا کہ تم نے بہت ہی ہوشیاری سے بریڈ اور باقی چیزوں کو تصویر سے ہٹانے کی کوشش کی ہے مگر تمہیں یہ کھانا پسند نہیں تو واپس چلے جاؤ وہاں طالبان تمہارے لیے مزے کا کھانا بنا کر بیٹھے ہیں۔ اس صارف نے ساتھ میں گولیوں کی تصویر بھی شیئر کی۔

حسان خان نامی پاکستانی سوشل میڈیا صارف نے کہا کہ یہ امریکا ہے پاکستان نہیں کہ جہاں کھاؤ گے بھی اور اس کے خلاف بھی بولو گے۔

ٹم ینگ نے کہا کہ مجھے خوشی ہو گی اگر تم واپس اپنے ملک جانا چاہو تو تمہاری ٹکٹ کے پیسے میں دوں گا کیونکہ تمہیں وہیں پر واپس جا کر اپنے من پسند کھانے کھانے چاہییں۔

ایک اور امریکی صارف نے کہا کہ کیا تم واقعی اس پر دکھی ہو؟ کیونکہ لاکھوں افغان شہری امریکا آنے کے لیے اپنا سب کچھ داؤ پر لگانے کیلئے تیار ہیں اور ایک تم ہو جو یہاں آ کر بھی شکوے کر رہے ہو۔

  • ان حرامیوں کو لِتر مار کر امریکہ سے نکالنا چاہیے۔ ایک دو سال کیں یہ جنگلی یا ان کو چاقو ماریں گے یا وہاں خودکش دھماکے کریں گے


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >