دورہ پاکستان قانون شکنی نہیں،کھلاڑیوں نے ذاتی حیثیت سے ٹورنامنٹ میں شرکت کی،انڈین کبڈی کوچ

انڈین کبڈی ٹیم کے کوچ ہرپریت سنگھ بابا نے کہا ہے کہ میگا ایونٹ کیلئے پاکستان دورہ کرکے کسی قسم کی قانون شکنی نہیں کی۔
پاکستان سے کبڈی ورلڈ کپ کا فائنل ہارنے کے بعد وطن لوٹنے والی بھارتی کبڈی ٹیم کے کوچ نے کہا کہ کبڈی ورلڈ کپ میں شرکت کیلئے پاکستان گئے یہ کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہم نے قانون توڑا ہوتا تو ہماری واپسی پر انتظامیہ ہم سے پوچھ گچھ کرسکتی تھی، لیکن ہم سے کسی نے کوئی سوال نہیں کیا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں کو کبڈی ایسوسی ایشن کے معاملات سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔
ہرپریت سنگھ کا کہنا تھا کہ ٹیم کو ایونٹ میں شرکت کی دعوت ملی جس پر انفرادی حیثیت میں ایونٹ کا حصہ بنے، ہم نے بھارت کی نمائندگی نہیں کی،ٹیم کے کھلاڑیوں نے ذاتی حیثیت میں یہ میچز کھیلے اس سے کسی فیڈریشن کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
بھارت کا نام لکھی ہوئی یونیفارم کے استعمال سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ یہ یونیفارم ہمیں پاکستان میں فراہم کی گئیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق کبڈی ورلڈ کپ کا آغاز 9 فروری سے پاکستان میں ہوا جس میں انڈیا نے اپنی کبڈی ٹیم بھیجنے سے انکار کردیا تھا جس کے بعد ایک غیر سرکاری کبڈی ٹیم بھارت سے پاکستان آئی اور ایونٹ کا حصہ بنی۔
پاکستان نے فائنل میں بھارت کو 41 کے مقابلے میں 43 پوائنٹس شکست دے کر ورلڈ چیمپیئن شپ کا ٹائٹل اپنے نام کیا۔


دوسری جانب ورلڈ کبڈی ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ پاکستان میں منعقد کبڈی ورلڈ کپ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں اور کوئی ادارہ فاتح ٹیم کو نہیں مانتا۔
کبڈی ایسوسی ایشن کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان نے دنیا کی تمام کبڈی ٹیموں کو ایونٹ میں شرکت کی دعوت دی ہم نے کسی ٹیم کو آفیشل لیٹر جاری نہیں کیا کہ وہ اس ایونٹ کا حصہ بنیں، تمام کھلاڑیوں اور ٹیموں نے اس ایونٹ میں انفرادی اور ذاتی حیثیت میں حصہ لیا۔


24 گھنٹوں کے دوران 🔥

View More

From Our Blogs in last 24 hours 🔥

View More

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept

>