ٹوکیو اولمپکس:پاکستانی ارشد ندیم کی شاندار کارکردگی،میڈل راؤنڈ کیلئےکوالیفائی کر لیا

ٹوکیو اولمپکس میں پاکستان کے ایتھلیٹ ارشد ندیم میڈل راؤنڈکیلئےکوالیفائی کرلیا،ارشدندیم پچاسی اعشاریہ ایک چھ کے فاصلے تک جیولین پھینکنے میں کامیاب ہوئے، اور پہلی پوزیشن حاصل کی،ارشد ندیم اولمپکس کی تاریخ میں پہلے پاکستانی ایتھلیٹ ہیں جنھوں نے کسی انویٹیشن کوٹے یا وائلڈ کارڈ کے بجائے اپنی کارکردگی کی بنیاد پر اولمپکس کے لیے براہ راست کوالیفائی کیا۔

جیولن تھرو کے فائنل مقابلے سات اگست کو ہوں گے اور اولمپکس کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کا کوئی ایتھلیٹ کسی ٹریک مقابلے کے حتمی مرحلے میں شریک ہوگا،ارشد ندیم کا تعلق میاں چنوں کے قریب واقع گاؤں چک نمبر 101-15 ایل سے ہے،ان کے والد کا پیشے کے اعتبار سے مستری ہیں انہوں نے اپنے بیٹے کی ہرموقع پر حوصلہ افزائی کی۔

ارشد ندیم کے کیریئر میں دو کوچز رشید احمد ساقی اور فیاض حسین بخاری نے اہم کردار ادا کیا، رشید احمد ساقی نے بتایا کہ وہ ارشد ندیم جکو ب چھٹی ساتویں جماعت کے سے جانتے تھے، انہیں شروع سے ہی کھیلوں کا شوق تھا، اس زمانے میں ان کی توجہ کرکٹ پر زیادہ ہوا کرتی تھی اور وہ کرکٹر بننے کے لیے بہت سنجیدہ بھی تھے لیکن ساتھ ہی وہ ایتھلیٹکس میں بھی دلچسپی سے حصہ لیا کرتے تھے، وہ اپنے اسکول کے بہترین ایتھلیٹ تھے۔

ارشد ندیم نے 2019 میں نیپال کے دارالحکومت کٹھمنڈو میں ہونے والے ساؤتھ ایشین گیمز میں 86 اعشاریہ 29 میٹرز دور نیزہ پھینک کر ساؤتھ ایشین گیمز کا نیا ریکارڈ قائم کیا تھا،اور براہ راست ٹوکیو اولمپکس کے لیے کوالیفائی کرنے میں بھی کامیاب ہو گئے تھے، 2017 میں باکو میں ہونے والے اسلامک سالیڈیرٹی گیمز میں تیسری پوزیشن حاصل کی۔

پھر 2018 میں جکارتہ میں ہونے والی ایشین گیمز میں کانسی کا تمغہ جیتا۔ اسی سال اُنھوں نے کامن ویلتھ گیمز میں آٹھویں پوزیشن حاصل کی،2019میں ارشد ندیم نے قطر میں ہونے والی ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ میں پاکستان کی نمائندگی کی اور سولہویں پوزیشن حاصل کی اور 81 اعشاریہ 52 میٹرز کے ساتھ نیا قومی ریکارڈ بھی قائم کیا۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>