غریب کی ہائے اور احمق کی رائے نہیں لینی چاہیے، جانئے وسیم اکرم نے ایسا کیوں کہا؟

سوئنگ کے سلطان اور سابق کپتان قومی کرکٹ ٹیم وسیم اکرم نے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ مجھ سے لوگ پوچھتے ہیں کہ میں کوچنگ کی ذمہ داری اپنے سر کیوں نہیں لیتا، بات یہ ہے کہ میں نہیں چاہتا کہ کل کے بچے اٹھ کر میرے ساتھ بدتمیزی کریں اور اپنی اپنی رائے دیتے پھریں۔

میزبان نے شعیب اختر کے اس بیان کا حوالہ دیا جس مین ان کا کہنا تھا کہ وہ چیئرمین پی سی بی سے کم کا عہدہ قبول نہیں کریں گے، اس پر وسیم اکرم نے کہا کہ غریب کی ہائے اور احمق کی رائے کبھی نہیں لینی چاہیے۔

سابق کپتان نے مزید کہا کہ پتہ نہیں لوگ شعیب اختر کی بات کو سنجیدہ کیوں لیتے ہیں۔ کیونکہ جس کو تمیز نہیں اس کا کچھ نہیں ہو سکتا۔

وسیم اکرم سے جب ورلڈ کپ اسکواڈ کے اعلان پر بابراعظم کے ٹیم سے غیر مطمئن ہونے سے متعلق جواب مانگا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس میں کچھ شک نہیں کہ موجودہ کپتان بابر اعظم بہترین بیٹسمین ہیں اور باکمال صلاحیت کے مالک ہیں مگر ان کو سمجھنا چاہیے کہ ٹیم میں یاری دوستی نہیں چلتی میچ جتوانے والے کھلاڑی ہونے چاہییں۔

وسیم اکرم نے مزید کہا کہ اگر کوئی اوسط درجے کا بھی پلیئر ہے جو کہ میچ جتوا سکتا ہے تو اسے ٹیم میں شامل کرنے میں برائی کیا ہے۔ کپتان کو اسے خوشدلی کے ساتھ قبول کرنا چاہیے۔ جن ان سے جاوید میانداد سے متعلق سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ بلاشبہ بہت بڑے کرکٹر رہے ہیں مگر جدید کرکٹ سے ناواقف ہیں۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>