کیا واقعی متھیشا پتھی نے 175 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کروائی ؟

کیا واقعی متھیشا پتھی نے 175 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کروائی ؟ سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی

کرکٹ کی دنیا میں موجودہ صدی کے آغاز میں اسپیڈو میٹر آنے کے بعد سے دنیا بھر کے باؤلرز میں تیز ترین گیند کرانے کا مقابلہ جاری رہا ہے۔ اور ہر باولر کی کوشش رہی ہے کہ وہ تیز تر بال کروائے،

انٹرنیشنل کرکٹ میں سب سے تیز ترین گیند کرانے کا اعزاز شعیب اختر کے پاس ہے جنہوں نے 2003 ورلڈ کپ میں انگلینڈ کے خلاف میچ میں 161.3 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کی تھی۔ تاہم اتوار کو کرکٹ شائقین اس وقت ششدر رہ گئے جب جنوبی افریقہ میں کھیلے جا رہے انڈر19 ورلڈ کپ میں سری لنکا کے فاسٹ باؤلر نے 175کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کرادی۔

اتوار کو انڈر19 ورلڈ کپ میں بھارت اور سری لنکا کے درمیان کھیلے گئے میچ میں سری لنکن فاسٹ باؤلر متھیشا پتھی رانا نے میچ کے چوتھے اوور کی پانچویں گیند کرائی جو وائیڈ گیند تھی تاہم اس گیند کی خاص بات یہ تھی کہ اسپیڈو میٹر کے مطابق انہوں نے 175کلومیٹر فی گھنٹہ یعنی 108میل کی رفتار سے گیند کی۔

مایہ ناز سری لنکن فاسٹ باؤلر لاستھ ملنگا کی طرح کے ایکشن کے حامل 17سالہ فاسٹ باؤلر کی جانب سے انڈر19 ورلڈ کپ میں کی گئی اس گیند پر ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔

اس گیند کو کرانے کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر شائقین کرکٹ کی جانب سے گیند کے اسکرین شاٹ پوسٹ کیے گئے اور انہوں نے اس گیند کی رفتار پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا ایسا واقعی ہوا ہے۔

شائقین یہ دلیل پیش کر رہے ہیں کہ اگر گیند کی یہ رفتار تھی تو کیپر نے اتنی آسانی سے کیسے پکڑ لیا، اور دوسرا انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے جو میچ کے تین یادگار لمحات دکھائے ان میں بھی یہ بال شامل نہیں تھی۔

سوشل میڈیا پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے نتیش کمار نامی صارف نے ایک انڈر19 باؤلر کی جانب سے اس قدر تیز گیند پر اپنی حیرانی کا اظہار کیا جبکہ کچھ نے اسے اسپیڈ گن کی غلطی بھی قرار دیا۔

مدشکا بالا سوریا نامی صارف نے نشاندہی کی کہ پتھی رانا ورلڈ کپ سے قبل 130کلومیٹر کی رفتار سے گیند کرتے تھے لہٰذا یہ ممکن نہیں کہ کوئی یکدم 175کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے باؤلنگ شروع کردے۔

دوسری جانب انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے بھی اس حوالے سے کسی قسم کا بیان یا سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر کوئی پوسٹ نہیں کی جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہ ایک مشینی غلطی کے سبب ہوا۔

اس کے ساتھ ساتھ آئی سی سی نے میچ کے جن تین بہترین لمحات کا ذکر کیا اس میں بھی اس گیند کا کوئی ذکر نہیں تھا جس کے بعد اس کو غلطی نہ ماننے کی تاحال کوئی وجہ باقی نہیں رہتی۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>