میچ فکس کرنے کے عوض کھلاڑیوں کو مہنگی گاڑیاں اور لاکھو ں ڈالرز ملے

سابق پاکستانی باؤلر عاقب جاوید نے ایک بار پھر میچ فکسنگ سے متعلق انکشافات کیے ہیں ، کہ پاکستان میں سٹے بازی نے ہمارے کرکٹ کے سسٹم کو جکڑ رکھا ہے۔

ایک مقامی نیوز چینل کے دعویٰ کےمطابق عاقب جاوید نے انکشاف کیا ہے کہ کھلاڑیوں کو میچ فکس کرنے پر مہنگی گاڑیاں اور لاکھوں ڈالرز ملتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ” ایک کھلاڑی کو میچ فکس کرنے پر مہنگی گاڑیاں اور لاکھوں ڈالرز ملے، مجھے بھی میچ فکس کرنے کو کہا گیا اور دھمکی دی گئی کہ اگر میں نے ایسا نہ کیا تو میرا کیریئر ختم ہوجائے گا”۔

عاقب جاوید نے الزام عائد کیا کہ کھلاڑیوں کو میچ فکسنگ کی آفرز ایک سابق کرکٹر جاوید پرویز کے ذریعے کی جاتی تھیں”۔ جاوید پرویز نے اپنا واحد انٹرنیشنل ون ڈے میچ 1980 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلا تھا اور اپریل 2013 میں انتقال کرگئے۔

عاقب جاوید نے اس قبل بھی اپنے مختصر کریئر کی وجہ میچ فکسنگ نہ کرنے کو قرار دیا تھا، ان کا کہنا تھا کہ” مجھے جب میچ فکسنگ کا پتا چلا تو میں اس کے خلاف کھڑا ہوگیا، مجھے اس بات کا کوئی افسوس نہیں ہے کہ اسی وجہ سے میرا کیریئر مختصر ہوگیا، میں اپنے اصولوں پر مضبوطی سےکھڑا ہوں”۔

انہوں نے فکسنگ میں ملوث کھلاڑیوں پر انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے کھولنے کے پی سی بی کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایسی چیزیں میچ فکسنگ جیسے جرائم میں ملوث ہونے والوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں، اور جنہوں نے اس کے خلاف آواز اٹھائی انہوں نے اپنے کیرئیر کا نقصان کیا ۔

یاد رہے کہ عاقب جاوید 1992 کے ورلڈ کپ کے فائنل کی فاتح ٹیم کا حصہ تھے۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>