کیا کرکٹ ورلڈ کپ2011 واقعی فکس تھا؟ تحقیقات شروع

کیا کرکٹ ورلڈ کپ2011 واقعی فکس تھا؟ تحقیقات شروع

ممبئی کے وانکھیڈے سٹیڈیم میں کھیلا جانے والا 2011 کے ورلڈ کپ کا فائنل میچ سری لنکا چھ وکٹوں سے بھارت کے خلاف ہار گیا تھا، سری لنکا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 50 اوورز میں چھ وکٹوں کے نقصان پر 274 رنز بنائے تھے۔

سری لنکن ٹیم نے سچن ٹندولکر کو 18 رنز پر آؤٹ کیا لیکن انڈیا نے اچانک میچ کا پانسا پلٹ دیا اور سری لنکا ناقص فیلڈنگ اور کمزور بولنگ کی وجہ سے میچ ہار گیا۔

رواں ماہ سری لنکا کے سابق وزیر کھیل مہند نندا التگمیج نے انکشاف کیا تھا کہ سری لنکا نے 2011 کا ورلڈ کپ انڈیا کو فروخت کیا تھا۔ سابق وزیر کھیل نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ ”میں نے آج آپ کو بتا دیا ہے کہ ہم نے 2011 کا ورلڈ کپ فروخت کیا تھا، میں جب سپورٹس کا وزیر تھا مجھے تب بھی اس کا یقین تھا”۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ 2011 کا ورلڈ کپ جیتنے والے تھے لیکن ہم نے اسے بیچ دیا، مجھے محسوس ہوتا تھا کہ میں اس بارے میں بات کروں، میں اس معاملے سے کھلاڑیوں کو منسلک نہیں کر رہا تاہم کچھ لوگ اس میں ملوث تھے۔

ان سے قبل سابق سری لنکن کھلاڑی ارجنا رانا ٹنگا نے بھی کہا تھا کہ 2011 کے ورلڈ کپ کا فائنل میچ فکس ہوا تھا، انہوں نے اس حوالے سے تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا تھا۔

سابق وزیر کھیل کے الزامات کے جواب میں سری لنکن کھلاڑی اور 2011 میں ٹیم کے کپتان کمار سنگاکارا نے کہا تھا کہ التگمیج اپنے الزامات آئی سی سی کی عالمی گورننگ باڈی کے ساتھ شیئر کریں۔

گزشتہ روز سری لنکا کے وزیر کھیل کے سیکرٹری روان چندر نے خبر رساں ادارے کو بتایا ہے کہ 2011 میں ورلڈ کپ کی فروخت کے معاملے کی کرمنل تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ ان کے مطابق یہ تحقیقات کھیل سے متعلقہ جرائم کی تحقیقات کے لیے قائم پولیس کا ایک آزادانہ سپیشل یونٹ کر رہا ہے۔

سری لنکن میڈیا کے مطابق سابق کپتان اور 2011 میں ٹیم کے چیف سلیکٹر آروندا ڈی سلوا کو آج تفتیش کاروں نے طلب کر رکھا ہے۔ رواں مہینے کے شروع میں سری لنکن کرکٹ حکام نے کہا تھا کہ آئی سی سی سری لنکا کے تین سابق کھلاڑیوں سے مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >