مائیکل ہولڈنگ نسلی امتیاز پر بات کرتے ہوئے رو پڑے (ویڈیو)

انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے میچ کے دوران سابق فاسٹ بولر مائیکل ہولڈنگ نسلی تعصب ختم کرنے سے متعلق بات کرتے ہوئے رو پڑے

کورونا وائرس کی وبا کے باعث رکے بین الاقوامی کرکٹ سیزن کا برطانیہ میں آغاز ہو چکا ہے اور بدھ سے انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کی ٹیموں کے درمیان تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز شروع ہوگئی ہے۔

بدھ کو جب کھیل کا آغاز ہوا تو معلوم ہوا کہ کھلاڑیوں کے ذہنوں پر کورونا کی وبا کے ساتھ ساتھ نسلی تعصب کے خلاف بین الاقوامی مہم ’black lives matter‘ بھی چھائی ہوئی ہے۔

کھیل کے آغاز پر جب دونوں ٹیمیں گراؤنڈ میں آئیں تو ویسٹ انڈیز کے کھلاڑیوں کو ایک ہاتھ میں کالا دستانہ پہنے دیکھا جا سکتا تھا۔ اس کے علاوہ دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں نے سیاہ فام افراد کے ساتھ پیش آنے والے امتیازی سلوک اور نسل پرستی کے خلاف گھٹنا ٹیک کر کھیل کا آغاز کیا۔

ویسٹ انڈیز کے کھلاڑیوں نے اپنا ایک ہاتھ اٹھا کر بلیک پاور سلیوٹ بھی کیا۔

یہ امریکہ میں چھ ہفتے قبل سیاہ فام شخص جارج فلائیڈ کی پولیس حراست کے دوران ہلاکت اور اس کے بعد امریکہ سمیت دنیا بھر میں ہونے والے مظاہروں کی گونج تھی اور جب بارش کی وجہ سے کھیل رکا تو کمنٹری کرنے والے کمنٹیٹرز کی باتوں کا موضوع بھی اس بنا پر طے ہوا۔

بات شروع تب ہوئی جب مائیکل ہولڈنگ سے یہ پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے اپنے کیرئیر میں کبھی اس طرح کے تعصب کا سامنا کیا۔ اگرچہ ان کا کہنا تھا کہ پوری زندگی جمیکا میں گزارنے کے باعث شاید انہیں اس طرح کا تعصب دیکھنے کو نہیں ملا جس کے خلاف بلیک لائیوز میٹر کی مہم چلائی جا رہی ہے۔

مائیکل ہولڈنگ نے کہا کہ پوری دنیا میں پڑھایا جاتا ہے کہ بلب تھامس ایڈسن نے ایجاد کیا مگر آج تک یہ کوئی نہیں جانتا کہ اس بلب میں روشنی دینے والا کاربن فلامنٹ کس کی ایجاد ہے کیونکہ وہ ایک سیاہ فام شخص تھا اس لیے آج تک اس کا کہیں کوئی ریکارڈ نہیں کسی کتاب میں نہیں پڑھایا جاتا۔

انہوں نے کہا کہ اداروں میں پیدا اس نسلی اور لسانی تعصب کو ختم کیا جانا چاہیے، اگر کسی جگہ پر کوئی غلط کام ہو جاتا ہے تو اسے سیاہ فام شخص سے جوڑ دیا جاتا ہے جبکہ کسی گورے کے ساتھ ایسا نہیں کیا جاتا۔

مائیکل ہولڈنگ سے اس متعلق بات کرتے ہوئے سکائی نیوز کے اینکر نے پوچھا کہ وہ گزشتہ روز اس پر بات کرتے ہوئے جذباتی کیوں ہو گئے تھے جس پر مائیکل ہولڈنگ پھر سے رونے لگے انہوں نے کہا کہ اس نفرت کو محسوس کرنا بہت عجیب لگتا ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان ڈیرن سیمی نے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا تھا جس میں انہوں نے اپنی آئی پی ایل ٹیم ’سن رائزرز حیدر آباد‘ کے ساتھی کھلاڑیوں کے بارے میں کہا تھا کہ وہاں ان کے لیے ایک لفظ استعمال کیا جاتا تھا جس کے بارے میں انہیں بعد میں معلوم ہوا کہ اس کا مطلب نسلی تعصب کے زمرے میں آتا ہے۔

  • Yes there is racism, but I would also like to say that the black and coloured people are themselves as much responsible for it as others are. If black and Pakistani/Indian people want to be respected, they have to come out of the inferiority complex and instead of crying/weeping against racism, they should prove their worth and command respect.

     


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >