پاک انگلینڈ سیریز کے دوران ہمیشہ تنازعات یادگار رہے، کب کب کیا کیا ہوا؟

پاکستان اور انگلینڈ کے کرکٹ میچز کے دوران متعدد بار ایسے واقعات رونما ہوئے جن کے باعث دنیا بھر میں سیریز پر گفتگو کی جاتی رہی اور ان واقعات کو تادیر یاد کیا گیا۔

پاکستان اور انگلینڈ کےمابین 1987 ميں فيصل آباد ميں پاکستانی امپائر شکور رانا اورانگلينڈ کےکپتان مائيک گيٹنگ کےدرمیان شدید گرما گرمی ہوئی۔

برطانوی بالر کے رن اَپ کے دوران فيلڈر کی پوزيشن تبدیل کرنے پر امپائر نے اعتراض کیا توانگلش کپتان بگڑ گئے۔ شدید بحث کے بعد شکور رانا نے میچ روک دیا اورمعافی کا مطالبہ کرديا۔ کافی تگ و دو کے بعد بالآخر مائیک گیٹنگ کومعافی مانگنا پڑی۔

اس کے بعد 1992 ميں پاکستانی ٹيم انگلينڈ پہنچی تو وقاریونس اور وسيم اکرم نے ريورس سوئنگ سے انگلش بيٹنگ کی کمرتوڑدی۔ انگلش پريس نے بال ٹیمپرنگ کے الزامات سے آسمان سر پر اٹھاليا۔ اس کے علاوہ اولڈ ٹريفورڈ ٹيسٹ ميں امپائر رائے پامر اور عاقب جاويد کے درميان نوک جھونک ہوئی جس پرکپتان جاويد ميانداد نے رائے پامر کے رويے پر سخت احتجاج کيا۔

پاکستانی ٹيم 2006 ميں انگلينڈ پہنچی تواوول ٹيسٹ کے چوتھے دن امپائر ڈيرل ہيئر نے بال ٹمپرنگ کا الزام لگاتے ہوئے پاکستانی ٹيم پر5 رنز کی پنالٹی لگادی۔

کپتان انضمام الحق نے چائے کے وقفے کے بعد ميدان ميں آنے سے انکار کرديا اورکچھ انتظار کے بعد انگلينڈ کو فاتح قراردے ديا گيا۔ ٹيسٹ کرکٹ کی تاريخ ميں يہ پہلا ميچ تھا جو فور فيٹ ہوا۔

پھر 2010 کے دورہ انگلينڈ ميں سپاٹ فکسنگ اسکينڈل سامنے آيا تو پاکستانی کرکٹرز سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر کو پانچ پانچ سال کے ليے بين الاقوامی کرکٹ سے معطل کرديا گيا۔

مگر 2016 کے دورہ انگلينڈ ميں پاکستانی ٹيم نئے روپ ميں نظر آئی پہلے مصباح الحق اور پھر پوری ٹيم کے ميدان ميں پش اَپس نے شائقين کرکٹ کے دل جيت ليے۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>