اسپاٹ فکسنگ کیس: ناصر جمشید کے جیل سے رہائی کے آرڈر روک دیئے گئے

اسپاٹ فکسنگ کیس میں سزا یافتہ سابق پاکستانی کرکٹر ناصر جمشید کو آج سزا پوری ہونے کے باوجود برطانیہ کی جیل سے رہائی نہ مل سکی، برطانوی ہوم آفس نے سابق پاکستانی کرکٹر کی رہائی کے آرڈر روک دئیے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق برطانوی ہوم آفس کی جانب سے ناصر جمشید کی رہائی کے آرڈر روکتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کیوں کہ ناصر جمشید کو برطانیہ سے ڈی پورٹ کیے جانے کی کارروائی کا سامنا ہے۔

ہوم آفس کے مطابق برطانیہ میں 12 ماہ سے کم سزا یافتہ شخص کو ڈی پورٹ نہیں کیا جاتا جبکہ ناصر جمشید کو عدالت نے اسپاٹ فکسنگ کیس میں 17 ماہ سزا سنائی تھی۔

خیال رہے کہ سابق کرکٹر ناصر جمشید اور ان کے ساتھیوں یوسف انور، محمد اعجاز کو 7 فروری کو سپاٹ فکسنگ کیس میں گرفتار کیا گیا تھا، تاہم ٹرائل کے دوران ناصر جمشید نے کراؤن کورٹ میں اپنے اوپر لگے الزامات کا اعتراف کیا تھا، جس پر کراؤن کورٹ نے انہیں 17 ماہ کی سزا سنائی تھی۔

کراؤن کورٹ نے ناصر جمشید کے دیگر ساتھیوں یوسف انور کو ساڑھے تین سال اور اعجاز احمد کو ڈھائی سال کی سزا سنائی گئی تھی، جبکہ تینوں مجرمان کو کمرہ عدالت سے گرفتار کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ سپاٹ فکسنگ سکینڈل میں الزامات ثابت ہونے پر پاکستان کرکٹ بورڈ سابق پاکستانی کرکٹر ناصر جمشید پر پہلے ہی دس سال کی پابندی عائد کر چکا ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >