کیا کرکٹ کو دوبارہ اولمپکس کا حصہ بنایا جارہا ہے؟

آئی سی سی (انٹرنیشنل کرکٹ کونسل) کی جانب سے تمام رکن ممالک کو سوالنامہ ارسال کیا گیا ہے جس میں تجاویز طلب کی گئی ہیں کہ اگر کرکٹ، اولمپک مقابلوں میں شامل ہوتا ہے تو انہیں ممالک اور اولمپک منتظمین کی جانب سے کتنی آمدن متوقع ہے۔

ایک اور سوال میں پوچھا گیا ہے کہ اگر کرکٹ کو مستقل بنیادوں یا آزمائشی طور پر 2028 میں لاس اینجلس میں شیڈول اولمپک مقابلوں میں شامل کیا جاتا ہے تو کس حد تک فوائد مل سکتے ہیں۔

آئی سی سی کے رکن ممالک کو بھیجے گئے فارمز 2 نومبر تک واپس کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جس کے بعد ان تجاویز کو رواں ماہ کے اختتام پر ہونے والی آئی سی سی میٹنگ میں زیرِ غور لایا جائے گا۔

آئی سی سی نے دو سال قبل بھی اسی نوعیت کے سوالنامے رُکن ممالک کو بھیجے تھے۔ تاہم کرکٹ کو اولمپکس میں شامل کرنے کے لیے کی جانے والی کوششوں میں اب تیزی آ رہی ہے۔

کرکٹ ماہرین کے مطابق بیشتر کرکٹ بورڈز کو اولمپک مقابلوں میں کرکٹ کی شمولیت سے معاشی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ خاص طور پر کرونا وبا کے پیشِ نظر کرکٹ بورڈز کو ہونے والے مالی خسارے کے تناظر میں اس تجویز کو پذیرائی مل سکتی ہے۔

کرکٹ کو 120 سال قبل 1900 کے پیرس اولمپک میں شامل کیا گیا تھا۔ بیلجیم اور نیدرلینڈ اس سے دست بردار ہو گئے تھے جب کہ ایونٹ میں کھیلے گئے واحد میچ میں برطانیہ نے فرانس کو 158 رنز سے شکست دی تھی۔

  • آی سی سی کا احمقانہ سوالنامہ ردی کی ٹوکری میں پھینکنا چاہئے لگتا ہے اس پر بھی انڈین لالچی قبضہ کرچکے ہیں
    اولمپک میں بغیر کسی مفاد کے بھی جانا پڑے تو جانا چاہئے کیونکہ یہ واحد ایونٹ ہوگا جس میں پاکستان اور بھارت جیسے بیمار لوگوں کے عوام بھی گولڈ میڈل جیت سکتے ہیں
    اولمپک میں جانے سے تمام دنیا میں کرکٹ کی تشہیر ہوگی اور ہر ملک کرکٹ پر توجہ دے گا، یورپ میں ٹیمیں بنای جائیں گی اور ہمارے ریٹائرڈ کھلاڑیوں کو روزگار ملیں گے


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >