قومی خواتین کرکٹ ٹیم کے باؤلنگ کوچ ارشد خان ٹیکسی چلانے پر کیوں مجبورہوئے؟

پی سی بی نے سابق ٹیسٹ اسپنر ارشد خان کو قومی خواتین کرکٹ ٹیم کا بولنگ کوچ مقرر کردیا ہے۔

ارشد خان نے 1997 میں اپنے ٹیسٹ اور ون ڈے کیرئیر کا آغاز کیا۔ اپنے کیرئیر کے دوران ارشد خان نے 9 ٹیسٹ اور 58 ون ڈے کھیلے۔ ارشد خان نے 58 ون ڈے میچز میں 56 وکٹیں جبکہ 9 ٹیسٹ میچز میں 32 وکٹیں حاصل کیں اور 2006 میں انہیں ٹیم سے ڈراپ کردیا گیا جس کے بعد انہوں نے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے لی۔

کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد ارشد خان آسٹریلیا شفٹ ہوگئے جہاں وہ مالی مشکلات کا شکار ہوگئے اور آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں ٹیکسی چلانے پر مجبور ہوگئے۔

ارشد خان کے ٹیکسی ڈرائیور بننے سے متعلق اطلاع سوشل میڈیا پر ایک بھارتی شخص نے دی جنہوں نے سابق کرکٹر کی ٹیکسی میں کیے گئے سفر سے متعلق تفصیلات کو شیئر کیا ہے۔

بھارتی شخص نے بتایا ہے کہ گزشتہ دنوں وہ آسٹریلیا کے شہر بیٹھ کر جا رہے تھے جب ٹیکسی ڈرائیور کے ساتھ ان کی گفتگو ہونے لگی اور اس نے بتایا کہ وہ بھارت جا چکے ہیں جہاں وہ پاکستانی کرکٹ ٹیم اور انڈین کرکٹ لیگ میں لاہور بادشاہز کی نمائندگی کرچکے ہیں۔ بھارتی شخص نے بتایا کہ یہ سب سن کر وہ حیران ہوگئے اور جب اس نے ٹیکسی ڈرائیور کو غور سے دیکھا تو وہ یہ جان کر دنگ رہ گئے کہ ٹیکسی ڈرائیور سابق پاکستانی کرکٹر ارشد خان تھے۔

بعدازاں یہ بات پی سی بی اور کچھ سابق کرکٹرز کے علم میں آئی جس کے بعد ارشد خان وطن واپس آگئے اور بحیثیت کوچ اپنا کرکٹ کیرئیر دوبارہ سے شروع کردیا اور بلوچستان کرکٹ ٹیم کے کوچ بن گئے۔

اپنے کیرئیر کے دوران بھی ارشد خان کو پاکستانی ٹیم میں کبھی شامل کرلیا جاتا کبھی ڈراپ کرلیا جس کا اثر انکی کارکردگی پر بھی پڑتا رہا ۔ اس کی وجہ ثقلین مشتاق تھے، ثقلین مشتاق اپنے وقت کے لیجنڈ سپنر تھے اور سیلیکٹرز ثقلین مشتاق کو انکی کارکردگی اور ورائٹی کی وجہ سے زیادہ ترجیح دیتے۔ ارشد خان کو ثقلین مشتاق کے ان فٹ ہونے یا وکٹ کے حالات دیکھ کر ٹیم کا حصہ بنایا جاتا۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >