بابر اعظم کی زندگی بال پِکر سے کپتان تک کا نشیب و فراز سے بھرا سفر

قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے اپنی 2007 سے 2001 تک کی کرکٹ میں انٹری اور اب تک کے سفر کی داستان سنائی کہ کس طرح انہوں نے ٹیم کے ساتھ بال پِکر کے طور پر سفر کا آغاز کیا اور آج وہ قومی ٹیم کی قیادت کر رہے ہیں مگر یہ سفر اتنا آسان نہیں تھا۔

بابر اعظم نے 2007 کا واقعہ یاد کیا جب وہ جنوبی افریقہ کے لاہور میں ہونے والے ٹیسٹ میچ میں باؤنڈری لائن پر بال پکڑ رہے تھے اور آج 2021 میں اس ٹیم کے خلاف ٹیسٹ میچ کھیل رہے ہیں۔

کپتان بابر اعظم نے بتایا کہ رمضان میں اگر وہ روزہ رکھتے تو ملنے والا کھانا گھر لےجایا کرتے تھے کہ کوئی چھوٹا بہن بھائی کھا لے گا تو کسی کے کام ہی آ جائے گا۔ انہوں نے ایک اور واقعہ سنایا کہ جاوید میانداد کا ریکارڈ توڑنے کے لیے انضمام الحق کو اپنے آخری ٹیسٹ میچ میں 2 رنز چاہییں تھے مگر وہ اسٹمپ آؤٹ ہوئے اور انہوں نے ڈریسنگ روم میں جا کر بلا توڑ کر اپنا غصہ نکالا۔

بابر اعظم نے کہا کہ یہ پندرہ سالہ سفر آسان نہیں تھا کافی مشکل تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے ہر موقعے پر مدد کی اور ان کے لیے آسانی پیدا کی، کیونکہ ان کا خواب تھا کہ وہ یہاں اپنے ملک میں اپنی ٹیم کے لیے کھیلیں اور اب اللہ تعالیٰ نے وہ خواب پورا کیا ہے اور وہ اس ٹیم کے کپتان ہیں۔

انہوں نے جنوبی افریقہ کے مایہ ناز بلے باز اے بی ڈویلیئر کو اپنا پسندیدہ بیٹسمین قرار دیا۔ بابر اعظم نے کہا کہ پاکستانی ٹیم کی قیادت کر کے وہ خود کو خوش قمسمت اور اپنے آپ میں فخر محسوس کرتے ہیں۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>