شاہنواز دھانی کا کھیتی باڑی سے لے کر کرکٹر بننے تک کا سفر

شاہنواز دھانی کا کھیتی باڑی سے لے کر کرکٹر بننے تک کا سفر

زندگی میں آگے بڑھنے کیلئے محنت اور لگن بہت ضروری ہے، ملتان سلطانز کی نمائندگی کرنے والے فاسٹ باﺅلر شاہنواز دھانی نے بھی فاسٹ باﺅلر بننے تک کے سفر میں کٹھن مراحل اور مشکلات دیکھیں۔

بی بی سی سے گفتگو میں شاہنواز دھانی نے اپنی کیریئر کی کہانی سنادی۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ انڈر 19 ٹرائلز دینے کے لیے گیے تو ان کے پاس جوتے اور جرابیں نہیں تھیں اور میرے دوست نے مجھے یہ سب فراہم کیا۔

شاہنواز دھانی کا کہناہے کہ ایک دن لاڑکانہ ریجنل کرکٹ کے ایک عہدیدار گاؤں میں آئے اور میری بولنگ دیکھ کر مجھے لاڑکانہ انڈر 19 کے ٹرائلز میں آنے کی دعوت دی۔ میں جب ٹرائلز دینے کے لیے گیا تو میرے پاس جوتے اور جرابیں نہیں تھیں جو میرے دوست نے مجھے دیں۔ میں نے اس وقت تک ہارڈ بال سے کرکٹ نہیں کھیلی تھی لیکن میں نے ٹرائلز میں کامیاب ہو کر انٹرڈسٹرکٹ ٹورنامنٹ کھیلا۔

بی بی سی کے مطابق سندھ کے شہر لاڑکانہ کے قریب واقع گاؤں کھو آوڑ خان دھانی میں ایک لڑکا کھیتی باڑی میں اپنے والد اور بھائی کا ہاتھ بٹاتا تھا۔ مگر جب بھی موقع ملتا وہ ٹیپ بال سے کرکٹ کھیلنا شروع کر دیتا۔ والد کو ان کا کرکٹ کھیلنا پسند نہیں تھا اور وہ چاہتے تھے کہ ان کا بیٹا پڑھ لکھ کر سرکاری افسر بنے۔

شاہنواز دھانی نے والد کی خواہش کا احترام کیا اور بی کام کیا لیکن سرکاری افسر نہ بنے۔ شاہنواز نےاپنی خواہش بھی پوری کی اور کرکٹ سے اپنا تعلق قائم رکھا اور اسی میں اپنا مستقبل تلاش کرنے کی کوشش کی۔

شاہنواز دھانی دو سال سے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیل رہے ہیں۔ شاہنواز خود کو اس اعتبار سے خوش قسمت سمجھتے ہیں کہ سینیئر کرکٹرز کی پاکستانی ٹیم میں مصروفیت کے باعث سندھ کی فرسٹ الیون میں شامل ہونے کا موقع مل گیا اور اب ملتان سلطانز نے مجھے پی ایس ایل میں ایمرجنگ کیٹگری میں شامل کیا۔ میرے گاؤں میں پہلے کسی کو پی ایس ایل یا کرکٹ کا پتا نہیں تھا لیکن اب پورا گاؤں خوش ہے۔

شاہنواز دھانی نے بی بی سی سے گفتگو میں بتایا کہ گاؤں میں ان کی کچھ زمینیں ہیں جن پر گندم اور چاول کاشت کرتے ہیں۔ اسی طرح باغ ہے جہاں امرود پیدا ہوتے ہیں۔ گاؤں میں ٹیپ بال سے اپنی کرکٹ کی ابتدا کی۔ میرے ساتھیوں کو میرا انتظار ہوتا تھا کہ میں کب کھیتی باڑی ختم کروں تاکہ کرکٹ کھیل سکیں۔ وہ مجھے بلانے کے لیے کسی کو سائیکل یا موٹرسائیکل پر بھیجتے تھے۔

آج 22 سالہ شاہنواز فاسٹ باؤلر کی حیثیت سے پاکستان سپر لیگ کی ایمرجنگ کیٹگری کا حصہ ہیں۔ پی ایس ایل میں ملتان سلطانز کی نمائندگی کرنے والے شاہنواز دھانی کی باﺅلنگ کا ہر کوئی معترف ہے ۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >