عالمی سطح پر قومی کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کرنیوالے باپ بیٹے

کراچی: معین اور اعظم خان پاکستان کی انٹرنیشنل کرکٹ میں نمائندگی کرنے والے باپ بیٹے کی پانچویں جوڑی بن گئے۔

سابق وکٹ کیپر معین خان کے صاحبزادے نے انگلینڈ کے خلاف جمعے کو پہلا ٹی 20 انٹرنیشنل میچ کھیلا، معین خان اپنے دور کے بہترین وکٹ کیپر اور آخری نمبروں کے بلے باز رہ چکے ہیں، معین خان نے مختلف مواقعوں کو لوئر مڈل آرڈر پر اچھا سکور کرکے قومی ٹیم کو جتوانے اور اچھے سکور کی بنیاد رکھنے میں ٹیم کی مدد کی ہے جبکہ معین خان کے صاحبزادے اعظم خان اچھے کرکٹر ہیں لیکن اپنے بھاری بھر کم جسم کی وجہ سے مسلسل تنقید کا نشانہ بنتے آئے ہیں۔

اس سے قبل بھی باپ بیٹے کو قومی کرکٹ ٹیم میں پاکستان کی نمائندگی کا اعزاز حاصل ہے جس کی تفصیل کچھ اس طرح سے ہے۔

حنیف محمد (باپ)، شعیب محمد (بیٹا)
لٹل ماسٹر کے نام سے جانے جانیوالے حنیف محمد نے 55 ٹیسٹ میچز کھیل کر 3915 رنز بنائے ، انہوں نے 12 سنچریاں اور 15 نصف سنچریاں سکور کیں اور بہترین سکور 337 بنایا۔یہ سکور حنیف محمد نے ویسٹ انڈیز کے خلاف بنایا تھا جب پاکستان کی ٹیم ویسٹ انڈیز کے خلاف فالوآن کا شکار تھی۔

حنیف محمد کے صاحبزادے شعیب محمد کو بھی لمبے عرصے تک قومی ٹیم کی نمائندگی کا اعزاز حاصل ہے اور وہ ٹیسٹ میچز کےکامیاب کھلاڑی سمجھے جاتے تھے۔ شعیب محمد نے 45 ٹیسٹ کھیل کر 7 سنچریوں، 13 نصف سنچریوں کی مدد سے 2705 رنز بنائے اور ان کا بہترین سکور 203 ناٹ آؤٹ رہا ۔

ون ڈے کرکٹ میں شعیب محمد نے 63 میچز کھیل کر ایک سنچری ، 8 نصف سنچریوں کی مدد سے 1269 رنز بنائے۔

نذر محمد(باپ)مدثر نذر (بیٹا)
نذر محمد نے 5 ٹیسٹ میچز کھیلے جبکہ انکے بیٹے مدثر نذر نے لمبے عرصے تک قومی ٹیم کی نمائندگی کی اور 76 ٹیسٹ میچز کھیل کر 4114 رنز بنائے اور 66 وکٹیں بھی حاصل کیں، مدثر نذر نے ون ڈے کرکٹ میں 122 میچز کھیل کر 2653 رنز بنائے جبکہ 122 ون ڈے میچز میں 111 وکٹیں حاصل کیں۔

مدثر نذر اپنے دور کے بہترین آل راؤنڈر سمجھے جاتے تھے، آج کل وہ کوچنگ کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں جبکہ انہیں پاکستانی ٹیم کی کوچنگ کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

ماجدخان (باپ)، بازیدخان (بیٹا)
ماجد خان موجودہ وزیراعظم پاکستان اور ورلڈکپ 1992 کے فاتح کپتان عمران خان کے کزن ہیں، ماجد خان نے 1964 سے 1983 تک قومی کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کی، انہوں نے 63 ٹیسٹ میں 8 سنچریوں کی مدد سے 3931 رنز بنائے جبکہ 23 ون ڈے میچز کھیل کر ایک سنچری کی مدد سے 786 رنز بنائے۔

ماجد خان کے صاحبزادے بازید خان نے ایک ٹیسٹ اور 6 ون ڈے کھیلے لیکن فرسٹ کلاس کرکٹ میں اچھی کارکردگی کے باوجود انہیں سیلیکٹرز کی جانب سے مسلسل نظرانداز کیا جاتا رہا جس کے بعد انہوں نے قومی ٹیم چھوڑ کر کمنٹری کی دنیا میں قدم رکھا اور مسلسل فرسٹ کلاس میچز اور پی ایس ایل میں کمنٹری کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ ماجد خان کے والد جہانگیرخان بھی ٹیسٹ کرکٹ میں قومی ٹیم کی نمائندگی کرچکے ہیں، انہوں نے 4 ٹیسٹ میچز میں 39 رنز بنائے۔ اس طرح ماجد خان فیملی کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ ماجد خان کے والد اور بیٹے قومی ٹیم کی نمائندگی کرچکے ہیں جبکہ ماجد خان کے کزن عمران خان اور جاوید برکی بھی لمبے عرصے تک قومی ٹیم کیلئے خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔

عبدالقادر (باپ)، عثمان قادر (بیٹا)
دو سال قبل انتقال کرجانیوالے گگلی ماسٹر عبدالقادر نے 67 ٹیسٹ میچز کھیل کر 236 وکٹیں حاصل کیں جبکہ 1029 رنز بھی بنائے جبکہ 104 ون ڈے میچز میں 132 وکٹیں حاصل کیں۔عبدالقادر کے صاحبزادے عثمان قادر آج کل ون ڈے اور ٹی 20 میچز میں پاکستان کی نمائندگی کررہے ہیں اور پاکستان کی فتوحات میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >