جاوید میانداد نے پان کھلایا تو وسیم اکرم کا کیا حال ہوا؟

پاکستان ٹیم کے سابق لیجنڈری بالر وسیم اکرم نے نجی ٹی وی کو انٹرویو میں اپنی زندگی کے اہم اور دلچسپ واقعات سنادیئے۔

وسیم اکرم نے اپنے ساتھی کھلاڑی جاوید میانداد کو اپنا محسن قرار دیا اور کہا کہ ان کی محبت اور شفقت کی وجہ سے مجھے بہت سی کامیابیاں ملیں،ساتھ ہی وسیم اکرم نے کراچی کے شہریوں کو مشورہ دیا کہ وہ پان اور گٹکے سے اجتناب کریں۔

اس بات کے ساتھ انہوں نے ماضی کا ایک قصہ سنایا کہ جاوید بھائی بھی پان کھاتے تھے اور ایک بار انہوں نے مجھے بھی پان کھلایا تھا جس کو کھا کر مجھے چکر آگئے تھے جبکہ جاوید بھائی پان بہت نفاست سے کھاتے تھے۔

لیجنڈری بالر وسیم اکرم نے کراچی اور لاہور کے مختلف کلچر سے متعلق بات کی اور کہا کہ ایک چیز دیکھ کر مجھے غصہ آتا ہے جب کسی جگہ پر پان اور گٹکے کی پیک کے نشانات دیکھتا ہوں، کچھ لوگ پان کھا کر جگہ جکہ تھوکتے ہیں جو مناسب بات نہیں۔

وسیم اکرم نے بتایا کہ پہلی بیوی کے انتقال کے بعد میں اپنے بچوں کے ساتھ لاہور سے کراچی آگیا بچے چھوٹے تھے پھر کچھ وقت گزار کے بچوں کو اسکول میں داخلہ دلوایا اور ان کی تمام ذمہ داریاں پوری کرنے کی تگ و دو میں لگا رہا۔

وسیم اکرم نے بھارت میں کھیلی جانے والے کلکتہ میچ کے حوالے سے بتایا کہ ایک بار ٹنڈولکر کے رن آؤٹ ہونے پر تماشائی غصے میں بے قابو ہوگئے کیونکہ اتفاق سے شعیب اختر ان کے سامنے آگیا تھا اور گیند بھی ڈائریکٹ وکٹ پر لگی،گراؤنڈ میں لوگوں نے پتھراؤ شروع کردیا بہت مشکل صورتحال پیدا ہوگئی ایسے میں سنیل گواسکر بھائی میرے پاس آئے اور کہا کہ ٹنڈولکر کو واپس بلالو لوگوں پر اچھا اثر پڑے گا تو میں نے کہا کہ نہیں بلاؤں گا اگر امپائر خود کہے گا تو پھر مجھے کوئی اعتراض نہیں۔

وسیم اکرم کا شمار کرکٹ کی تاریخ کے عظیم ترین فاسٹ بالرز میں ہوتا ہے، وہ ون ڈے کرکٹ میں500 وکٹیں حاصل کرنے والے پہلے بالر تھے۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>