عاقب جاوید کے قومی ٹیم کے سابق باؤلنگ کوچ وقاریونس پر طنزیہ وار

عاقب جاوید کے قومی ٹیم کے سابق باؤلنگ کوچ وقاریونس پر طنزیہ وار

عاقب جاوید کے قومی ٹیم کے سابق باؤلنگ کوچ وقاریونس پر طنزیہ وار۔ وقار یونس کو کمنٹری کرنے کی بجائے کوچنگ سیکھنے کامشورہ دے دیا۔

لاہور قلندرز کے ہیڈ کوچ عاقب جاوید نے قومی ٹیم کے مستعفی ہونے والے باؤلنگ کوچ وقار یونس کو مشورہ دیا ہے کہ اب وہ دوبارہ کمنٹری کرنے کے بجائے پہلے کوچنگ سیکھیں۔ وقار یونس نے دو ہی کام کیئے ہیں، ایک کمنٹری اور ایک کوچنگ، کوچنگ انہوں نے سیکھی نہیں اس لیے بہتر ہے کہ اب وہ کمنٹری کے بجائے کوچنگ سیکھنے پر توجہ دیں۔

عاقب نے وقار یونس پر طنز کیا کہ 15 برسوں میں 5 مرتبہ کوچ بنے ہیں، اتنا تو کسی پلیئر کا کم بیک نہیں ہوتا، یہاں کوچ کا کم بیک ہوتا ہے، ایسا دنیا میں کہیں نظر نہیں آئے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وقار یونس کبھی کوچ تھے، نہ انہوں نے کبھی بننا ہے، وہ بس پاکستان ٹیم میں کوچنگ کے لیے آتے ہیں اور پھر سیدھا کمنٹری کی طرف چلے جاتے ہیں، وہاں 2 تین سال لگاکر دوبارہ ٹیم میں آجاتے ہیں، کبھی ہیڈ کوچ تو کبھی باؤلنگ کوچ۔جس شخص کا کوچنگ پروفیشن نہیں ہے آپ اسے کوچ کیوں لگاتے ہیں۔

عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ ہم ایک بڑا نام لیتے ہیں اور اسے پکڑ کر کہتے ہیں کہ یہ بہت زبردست بیٹنگ کیا کرتاتھا اب بہت زبردست بیٹنگ سکھائے گا، یہ زبردست باؤلر تھا، زبردست باؤلنگ سکھائے گا، کھیلنا اور کوچنگ کرنا 2 علیحدہ چیزیں ہیں، ماضی میں جو بھی کوچنگ سیکھے بغیر آیا، چاہے وہ جاوید میاں داد ہوں یا کوئی اور، وہ ناکام ہی ہوا ہے۔

مصباح الحق سے متعلق انکا کہنا تھا کہ جب مصباح الحق کو ہیڈ کوچ بنایا گیا تھا تو میں نے اسی دن کہا تھا کہ اس سے بڑی زیادتی کوئی اور نہیں ہو سکتی کہ آپ پہلی مرتبہ کوچنگ کریں اور قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ ہوں۔

​​عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کوچنگ کی ڈیولپمنٹ پر کام تو کیا ہی نہیں گیا۔یقینی طور پر اب پاکستان ٹیم کے کوچز غیر ملکی ہوں گے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >