زراعت ولائیو سٹاک کی ترقی کیلئے بنایا گیا حکومتی ٹرانسفارمیشن پلان کیسے تبدیلی لائے گا؟

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے فوڈ سیکیورٹی جمشید اقبال چیمہ نے صحافی عدیل وڑائچ سے گفتگو کے دوران بتایا کہ تحریک انصاف کی حکومت کس طرح زراعت کے شعبے میں انقلاب برپا کرنے جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ حکومت کا زراعت کے شعبے کیلئے لایا گیا "وزیراعظم ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن پلان” عید کے بعد نافذالعمل ہو جائے گا۔

جمشید اقبال چیمہ نے بتایا کہ حکومت زراعت کے شعبے سے جڑے لوگوں کی معاونت کرے گی اور اس میں لائیو اسٹاک کے شعبے کے لوگوں کو سیکس سیمن مہیا کرے گی جس سے جانوروں کی پوری بریڈ ہی تبدیل ہو جائے گی۔

معاون خصوصی نے بتایا کہ بریڈ تبدیل ہونے سے جو لوگ اپنے جانور سے دن میں 4 کلو دودھ لے رہے ہیں وہ نسل تبدیل ہونے کے بعد اپنے انہی جانوروں سے  15 کلو دودھ حاصل کر سکیں گے جو کہ یقیناً طور پر ان کی آمدن بڑھانے کا ذریعہ بنے گا۔

معاون خصوصی فوڈ سیکیورٹی نے بتایا کہ نواز شریف اور زرداری دور میں پاکستان کی زراعت کے برے حالات تھے اور انہوں نے اپنے دور حکومت میں فی ایکڑ گندم کی پیداوار میں صرف 20 کلو اور بالترتیب ایک من اضافہ کیا جبکہ تحریک انصاف کی حکومت اب تک پاکستان کی گندم کی فی ایکڑ پیداوار میں3 من تک کا اضافہ کر چکی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی 22 کروڑ آبادی کے پاس ساڑھے 5 کروڑ ایکڑ زمین ہے جو فی کس 2.56 کنال بنتی ہے۔ 1250 کیوسک پانی ہے جو کہ چیلنجنگ فیکٹر ہے اور ہماری ضروریات کو پورا نہیں کر پا رہا۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے پاس جتنے جانور ہیں ہم اس لحاظ سے ان سے فوائد حاصل نہیں کر پا رہے جس سے ہماری ایکسپورٹ متاثر ہو رہی تھیں۔

جمشید اقبال چیمہ نے بتایا کہ پاکستانی زراعت کا سب سے بڑا شعبہ لائیو اسٹاک ہے اس لیے سب سے پہلےہماری ترجیح یہی شعبہ ہے اس کے علاوہ ہمیں فصلوں کی پیداوار میں ان فصلوں کی جانب جانا چاہیے جو کم وقت میں زیادہ پیداوار دیتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم چاول اور کپاس کے ایسے بیج لا رہے ہیں جو 3 سے 4 ماہ کے دوران فصل تیار ہو اور کسان اس سے فائدہ اٹھا سکے نہ کہ وہ سال میں ایک یا 2 فصلیں کاشت کرے جس سے اس کا صرف گزر بسر کرنا ہی ممکن ہو سکے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >